حضرت امیرالمومنین (ع) متضاد صفات کے مالک اور مروت و اخلاقی اوصاف کا مجسمہ ہیں
ایام شہادت حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی مناسبت سے بنیاد اختر تابان میں مجلس عزاء
شہادت امیر المومنین مولا المتقین علی ابن ابی طالب علیہ الصلاۃ والسلام کی مناسبت سے بنیاد اختر تابان کی جانب سے مجلس عزاء اور افطار کا اہتمام کیا گیا ہے۔
اس مجلس کو حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ظفر عباس صاحب نے خطاب فرمایا. خطیب محترم نے مجلس میں مروت کی عظمت اور فضیلت کے سلسلے میں متعدد احادیث پیش فرماتے ہوئے بیان کیا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ:
(مِنْ أَفْضَـلِ الدّينِ أَلْمُـرُوَّةُ، وَلاخَيْرَ فى دينٍ لَيْسَ لَهُ مُرُوَّةٌ. (ميزان الحكمة، جلد 9 صفحه 117
مروت بہترین و افضل دین میں سے ہے اور اس دین میں کوئی خیر نہیں ہے جس میں مروت نہیں ہے۔
اسی طرح امام علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے حدیث کا ذکر کیا کہ:
لَوْ أَنَّ اَلْغِیَاضَ أَقْلاَمٌ وَ اَلْبَحْرَ مِدَادٌ وَ اَلْجِنَّ حُسَّابٌ وَ اَلْإِنْسَ کُتَّابٌ مَا أَحْصَوْا فَضَائِلَ أَمِیرِ اَلْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ (عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ )
کنز الفوائد، ج ۱، ص ۲۸۰
اگر تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی، تمام جنات فضائل کا حساب کرنے والے اور تمام انسان لکھنے والے بن جائیں تب بھی امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہماالسلام) کے فضائل کو شمار نہیں کرسکتے ہیں۔
بنیاد اختر تابان شعبہ قم کے دفتر میں منعقد ہونے اس مجلس میں خطیب محترم نے مزید کئی احادیث بیان کرتے ہوئے مروت و جوانمردی اور لوگوں کو معاف کرنے کے حوالے مختلف مطالب کا ذکر فرمایا اور اس سلسلے مین اہل بیت علیہم السلام، خاص طور پر امام علی علیہ السلام کی سیرت سے متعدد واقعات اور مثالوں کو بھی پیش کیا اور بیان کیا کہ ان حضرات کی زندگی میں دوست اور دشمن دونوں کے لیے مروت پائی جاتی تھی. یہ حضرات دشمنوں کے حق میں بھی کسی طرح کی زیادتی کو روا نہیں جانتے تھے اور ہمیشہ ہی ضرورتمندوں، غریبوں، یتیموں اور مشکلات میں گرفتار لوگوں کی مدد کے لیے آگے رہتے تھے۔
حوزہ علمیہ قم کے مایہ ناز خطیب مولانا ظفر عباس صاحب نے مزید فضائل امیرالمومنین علی علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے صفی الدین حلی کے اشعار کا ذکر کیا جس میں امام علی علیہ السلام کی ذات میں پائے جانے والے متضاد صفات کا تذکرہ آیا ہے یعنی امام عالی مقام زاہد ہونے کے ساتھ حاکم بھی تھے، حلیم ہونے کے ساتھ شجاع بھی تھے، خود فقیر و ضرورتمند تھے لیکن سخی اور بخشش و عطا کرنے والے بھی تھے، اسی طرح اللہ کے علاوہ کسی سے بھی خوف نہیں کھاتے تھے وہیں بارگاہ الہی میں جب حاضر ہوتے تھے تو زار و قطار گریہ فرماتے تھے۔
مجلس کا اختتام مصائب شھادت امیر المومنین اور نوحہ و ماتم کے ساتھ ہوا اور آخر میں افطار اور تبرک مولا تقسیم کیا گیا۔